FANDOM


بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم وبہ نستعین وھوخیرناصرومعین

حجة الاسلام علامہ محمدعلی فاضل کی خدمات کامختصرجائزہ

حجة    الاسلام علامہ محمدعلی فاضل 1944 ءمیں پاکستان کے ضلع ڈیرہ غازیخان میں پیداہوئے ،ابتدائی تعلیم مقامی مڈل(موجودہ ہائی)سکول میں حاصل کرنے کے بعد1958 ءمیں مخزن العلوم الجعفریہ ملتان میں عالم عربی تک دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعدفاضل عربی کے امتحان کے لئے جامعہ امامیہ لاہورمیں داخلہ لیااور1962ءمیں پا کستان میں دینی تعلیم کی سند”فاضل عربی“بورڈآف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (پنجاب یونیورسٹی) لاہورسے حاصل کرنے کے بعدچھ سال تک ملک کے مختلف دینی مدارس اورمساجدمیں علمی اورتبلیغی خدمات انجام دیتے رہے،اور1968ءمیں اعلی تعلیمات کے حصول کے لئے حوزہ علمیہ قم المقدسہ تشریف لے گئے اوراس وقت کے حجج اسلام اسداللہ بیات،ابوالفضل موسوی،عباس دوزدانی ،مصطفی اعتمادی اورجعفرسبحانی جیسے ماہرین علوم وفنون اورقابل قدراساتذہ کرام سے سطحیات کومکمل کرلیا،اور1973 ءمیں ڈیرہ غازیخان کے بعض اکابراورمومنین کی درخواست پرپاکستان کے اس شہرتشریف لے گئے اوردینی مدرسہ قائم کرکے تدریسی اورتبلیغی خدمات انجام دیتے رہے ،ساتھ ہی حضرت امام خمینی رضوان ا....علیہ کی قیادت میں چلائی جانے والی اسلامی انقلاب کی تحریک کی کامیابی کےلئے پاکستان میں اپنی مقدوربھرکوشش کی،چنانچہ 1979ءمیں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے چندماہ بعددوبارہ حوزہ علمیہ قم تشریف لے گئے اورتحصیل علم میں مشغول ہوگئے ،اورآیات عظام گلپائیگانی ، مرعشی نجفی شریعتمداری، شیرازی اورحرم پناہی کے دروس خارجہ سے بھرپوراستفادہ کیا،ساتھ ہی اسلامی انقلاب کے صدورکیلئے اپناشرعی اوراخلاقی فریضہ جانتے ہوئے اردوزبان میں لٹریچرکی نشرواشاعت کے لئے کوششیں شروع کردیں،چنانچہ مجلہ ہائے ماہنامہ”جہاد“قم،”پیام امت “تہران،”الشہید“تہران کااردوزبان میں اجراءاوران کی نشرواشاعت آپ ہی کی کاوشوںکانتیجہ ہے ،جس سے دنیابھر کے اردودان طبقہ کےلئے اسلامی انقلاب کو سمجھنے میں بڑی مددملی ہے۔

اسی دوران آپ نے دفترتبلیغات اسلامی قم کے”شعبہ روحانےت“سے محاذجنگ پرتبلیغی امورکی بجاآوری کیلئے درخواست کی جومنظورکرلی گئی اورآپ کوملک کی مغربی سرحدوںکی طرف” قرار گاہ نجف اشرف “بھیج دیاگےااورآپ نے قرارگاہ کے مسئول(انچارج)امورمبلغین کے ہمراہ کردستان، ایلام، اور خوزستان کے اگلے مورچوںمیں تبلیغی خدمات سرانجام دیں ا وریہ سلسلہ تقریباًپانچ چھ ماہ تک جاری رہا۔

اسی اثنامیں ثقافتی خدمات کی بجاآوری کیلئے آپ ادارہ ارشاداسلامی زاہدان کے مدیر کل(ڈائریکٹر جنرل) کی درخواست پرزاہدان تشریف لے گئے اورآپ کو اردوزبان کے ذریعہ خدمت انقلاب کی پیشکش کی گئی ،چنانچہ آپ نے وہاں پراردوکلاسوںکااجراءفرمایاجن سے کافی تعدادمیں طلباءاورطالبات نے استفادہ کیا، اسی دوران میں ادارہ کی طرف سے اردو، ہفت روزہ ”ارشاد“ کااجراءآپ کی ادارت میں کیاگےا،جس کے ساتھ انہی کلاسوں کے طلباءوطالبات نے تعاون کیااور ہفت روزہ کامیابی سے چلتارہا،اس کے مضامین ، مراسلات ،خبریں اورتبصرے اس قدرجاندارہوتے تھے کہ برصغیرکے بعض اخبارات اس سے استفادہ اوراقتباس کیاکرتے تھے۔          

اس کے ساتھ ہی آپ کو”ریڈیوزاہدان“کے شعبہ اردوکی طرف سے تعاون کی دعوت دی گئی جو آپ نے بڑی خوشی سے قبول فرما لی اور حتی الامکان اس کے ساتھ اسلامی انقلاب کی ثقافتی خدمات کیلئے بھرپورحصہ لیااوریہ سلسلہ برابردوسال جاری رہا۔

پھرامام جمعہ زہدان نے صوبہ بلوچستان(ایران)کے مرکزی شہر”ایرانشہر“میں ”سازمان تبلیغات اسلامی “ کے دفتر کے اجراءکیلئے سازمان تبلیغات اسلامی کے مرکزی دفترتہران سے آپ کی مدیریت کی درخواست کی جو فوری طورپرمنظورکرلی گئی،چنانچہ مرکزکی طرف سے آپ کوایرانشہرجاکردفترقائم کرکے رپورٹ کرنے کا آرڈر موصول ہوااورآپ ایرانشہرتشریف لے گئے اورسازمان کادفترقائم کرکے اپنی ثقافتی ،تبلیغی اورتعلیمی سرگرمیوں کاآغاز کردیا اور دو سال کے قلیل عرصہ میںا س نوبنیاددفترکوملک کے دوسرے دفاتر کے شانہ بشانہ لاکھڑا کیا اور اتحاد بین المسلمین کے لئے اس قدرشبانہ روز کوششیں کیں کہ دوسوسے زائدعلماءتشیع وتسنن کے متعددسیمینار،کانفرنسیں اوراجلاس منعقد کئے ، جس کی وجہ سے فریقین کے علماءکونزدیک سے نزدیک ترآنے اورسمجھنے کاموقعہ ملااس اس وقت کایہ نونہال آج ایک ثمر آوردرخت کی مانندصوبہ بلوچستان کواپنے فیوض وبرکات سے مستفیدومستفیض کررہاہے،للہ الحمد

ایرانشہرمیں تقریباًپانچ سال تک خدمات انجام دینے کے بعدآپ نے اپنی علمی تشنگی کوبجھانے کےلئے حوزہ علمیہ قم واپس جانے کی درخواست کی جوقبول کرلی گئی ،اس دوران تحصیل علم کے ساتھ ساتھ آپ نے دفترتبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم کے ساتھ بھی اس کے ”قسمت آموزش“(تعلیمی وتدریسی شعبہ)سے تعاون جاری رکھا،اسی عرصہ میں پاکستان سے علامہ سیدصفدرحسین نجفی مرحوم اوران کے رفقاءکارکی طرف سے پاکستان آکردینی خدمات سرانجام دینے کی دعوت دی گئی مگرآپ نے اپنی علمی پیاس بجھانے کیلئے مزیدکچھ عرصہ قم ہی میں رہنے کی اجازت طلب کی ، مگر دوسرے سال پھربھرپورطریقے سے دعوت کودہرایاگیا،آخرکارمجبوراًآپ کوپاکستان کیلئے رخت سفرباندھنا پڑا۔

پاکستان میں تشریف لانے کے بعد آپ نے پنجاب کے ضلع راجن پور میں ایک عظیم الشان مدرسہ ”جامعہ امام جعفر صادق علیہ السلام“کی بنیاد رکھی جہاں سے فارغ التحصیل علماءکرام پاکستان کے طول و عرض میں مصروف عمل ہیں۔

اس کے ساتھ ہی جامعہ ہذا کے زیر اہتمام دختران ملت کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے ”حوزہ علمیہ زینبیہ ؑ“ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا، جس سے اب تک کافی تعداد میں خواتین بہرہ ور ہوچکی ہیں اور علمی و تبلیغی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اور اب اس سلسلہ کو آگے چلانے کے لیے آپ کے فرزند ارجمند علامہ محمد تقی فاضل یہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔

آپ کی تحریر ی خدمات

۱۔تفسیرالمعین:قرآن مجیدکی مختصرترین تفسیرجواحادیث معصومین کی علیہم السلام کی روشنی میںتحریرکی گئی ہے،ایران اور

عرب ممالک میںخراج تحسین وصول کرچکی ہے،کتاب زیور طبع سے آراستہ ہو چکی ہے۔

۲۔ترجمہ قرآن مجید:تفسیرنورکی روشنی میںقرآن مجیدکاترجمہ بھی شائع ہو چکا ہے۔

۳۔تفسیرنمونہ:کی ستائیس جلدوںمیں سے آخری پانچ جلدوںکے ترجمہ اورتصحیح میںآپ کاتعاون شامل ہے،اسی طرح

۴۔پیام قرآن:کی پہلی دوجلدوں کا ترجمہ اورتصحیح ۔

۵۔میزان الحکمت:آیت ا....محمد،محمدی ری شہری کی دس ضخیم جلدوں پرمشتمل تقریباً۵۲ہزاراحادیث معصومین (ع) کامجموعہ ہے،اس کتاب کی دس جلدوںکاترجمہ آپ ہی کے قلم کاشاہکارہے جن میں سے آٹھ کا ترجمہ چھپ چکاہے ،باقی دوکاترجمہ ہوچکاہے جوعنقریب چھپ کرمنظرعام پرآنے والاہے۔انشاءاللہ۔

۴۔تفسیرنور:اسلامی جمہوریہ ایران کے جیدعالم دین اورمفسرقرآن حجة الاسلام والمسلمین محسن قرائتی دامت برکاتہ کی تفسیرقرآن مجیدجوبارہ جلدوں پرمشتمل ہے۔

۵۔منہاج البراعہ شرح نہج البلاغہ:نجف اشرف کے مجتہد،حضرت آیت اللہ سیدحبیب اللہ خوئی قدس سرہ نے نہج البلاغہ کی 21جلدوں پرمشتمل شرح تحریرفرمائی ہے۔

۶۔احکام اسلام: دین کے تمام فرعی احکام جیسے نماز، روزہ، حج، زکوٰة، خمس جہاد وغیرہ کے تمام مسائل کا تفصیلی ذکراس کتاب میں کیا گیا ہے۔ جس سے عالم اسلام استفادہ کررہا ہے۔

باقیات الصالحات مفاتیح الجنان:ثقة المحدثین حاج شیخ عباس قمی رحمة اللہ علیہ کی اعمال اورزیارات پرمشتمل مشہورعالم کتاب مفاتیح الجنان کے ساتھ کتاب”باقیات الصالحات“کااردوترجمہ بھی آپ ہی کے خامہ گوہرریزکا شاہکارہے ، تقریباًہرشیعہ مسجد،امام بارگاہ اورگھرمیں موجود ہے۔

۷۔کاروان شہادت(مدینہ تا مدینہ منزل بہ منزل): مقتل امام حسین علیہ السلام پر مشتمل یہ کتاب آپ کی عظیم تالیفات میں سے ایک ہے جس میں حضرت امام حسین علیہ السلام کا مدینہ سے مکہ، مکہ سے کربلا تک کا سفر منزل بہ منزل پیش کیا گیا ہے، اس کے علاوہ اسرائے کربلا کا کربلا سے کوفہ و شام اور واپسی مدینہ تک کا سفر بھی اسی کتاب میں شامل ہے ۔ یہ کتاب ایک ریفرنس کی حیثیت رکھتی ہے جس کے مستند ہونے میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہے۔

۸۔آسان عقائد:اصول دین پرمختصرمگرمدلل گفتگوجس میں توحیدسے لیکرمعاد(قیامت)تک ہرایک موضوع پر اختصار مگراستدلال کے ساتھ گفتگوکی گئی ہے۔کالجوں اوریونیورسٹیوں کے طلباءکےلئے بہت مفیدہے اورملک کے کئی دینی مدارس میں بطورنصاب پڑھائی جاتی ہے ۔

۹۔معاد:اےران کے معروف خطیب حجة الاسلام والمسلمین محمدتقی فلسفی رحمة اللہ علیہ کی تصنیف کاآپ نے ترجمہ فرمایاہے، معاد(قیامت)پرقرآن وحدیث کی روشنی میںگفتگوکی گئی ہے اورسائنس اورفلسفہ کی روشنی میں اس کے اثبات میں دلائل پیش کئے گئے ہیں ۔

۰۱۔ماہ رمضان اوراعتکاف:اردوزبان میں اعتکاف کے موضوع پرپہلی تفصیلی کتاب ،جس میں اعتکاف کے فضائل طریقہ کاراورمراجع عظام کے فتاویٰ کوپیش کیاگےاہے ،ساتھ ہی ماہ رمضان کی دعاﺅںاوراعمال کو درج کیاگیاہے ۔

۱۱۔احکام اموات:مرنے والے سے متعلق تفصیلی احکام ،بستربیماری سے لیکرتدفین کے آخری مراحل بلکہ زےارت قبور تک کے مسائل کوتفصیل کے ساتھ بیان کیاگیاہے۔

۲۱۔نورولایت:حضرت امیرعلیہ السلام کی ولایت ،امامت اورخلافت بلافصل پرعقلی اورنقلی دلائل کوتفصیل کے ساتھ بیان کیاگیا ہے ،ساتھ ہی”علی صوت العدالة الانسانیہ“کے معروف عالم عیسائی رائٹر”جارج جرداق “کاتفصیلی انٹرویوشامل ہے ۔

۳۱۔ایک سوچودہ قرآنی سوال اوران کے جوابات:ایرانی دانشور آقای حسن جمشیدی کی تالیف کاآپ نے ترجمہ فرمایا ہے۔

۴۱۔مودت فی القربیٰ:قرآن مجیدکی آےت مودت کی روشنی میں ثابت کیاگیاہے کہ پیغمبراسلام کے قریبیوں سےمودت ایک خدائی فریضہ  ہے جسے ہرامتی کااداکرناواجب ہے اور”قربیٰ “سے مرادعلی ؑوفاطمہ ؑ، حسنین شریفین ؑ اوران کی نسل سے معصوم ائمہ ؑ ہیں،کتاب کایہ ایڈیشن ختم ہوچکاہے۔

۵۱۔خواتین سے متعلقہ مسائل حج وعمرہ:جناب آقای محمدحسین فلاح زادہ کی تالیف ہے جس میں خواتین سے متعلقہ مخصوص مسائل حج اورعمرہ کومراجع عظام کے فتاویٰ کی روشنی میں بیان کیاگیاہے۔

۶۱۔ ایمان مجسم: ”برز الایمان کلہ الی الکفر کلہ“ آج کل ایمان کل کفر کے مقابلہ میں جا رہا ہے۔ اس فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مدنظر رکھتے ہوئے مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کی سیرت پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔

۷۱۔آخری نبی کا آخری خطبہ: خلافت بلافصل اور ولایت علی علیہ السلام کے سلسلے میں دیا جانے والا میدان غدیر خم میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کا آخری مفصل خطبہ اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی اس خطبہ کی سند محققانہ انداز میں پیش کی گئی ہے۔

۸۱۔اس کے علاوہ :سازمان تبلیغات اسلامی مرکزکی طرف سے مترجم کے نام کے بغےراکثروبیشترشائع ہونے والی کتب آپ کے قلم کاشاہکارہیں اورپاک وہندکے دینی مدارس میں پڑھائی جاتی ہیں۔

زیرطبع کتابیں

۱۔تفسیرنور:

۲۔منہاج البراعہ:

۳۔قرآن مجسم:

۴۔مخدومہ کونین، مقام و منزلت: حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت پر مشتمل کتاب۔

۵۔پیکر صلح و صفا، شہزادہ سبز قبا: سبط اکبر حضرت امام حسن علیہ السلام کی سیرت پر مشتمل کتاب۔

۶۔اسلام کی نظر میں انسانی حقوق: حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی زبان مبارک سے بیان کیے گئے انسانی حقوق کو بنیاد بناتے ہوئے انسان کے تمام حقوق کو اس کتاب میں بیان کیا گیا ہے۔

۶۔تفسیر دعائے مکارم الاخلاق: حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی عظیم دعا ”دعائے مکارم الاخلاق“ کی تفسیر عظیم علمی نکات کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔

۷۔علوم حدیث: علم حدیث پر منفرد کتاب جس میں تعارف کے علاوہ فریقین کے نزدیک تاریخ حدیث پر تجزیہ پیش

کیا گیا ہے۔

Write the first paragraph of your article here.

Section headingEdit

Write the first section of your article here. Remember to include links to other pages on the wiki.

Section headingEdit

Write the second section of your article here. Don't forget to add a category, to help people find the article.

Ad blocker interference detected!


Wikia is a free-to-use site that makes money from advertising. We have a modified experience for viewers using ad blockers

Wikia is not accessible if you’ve made further modifications. Remove the custom ad blocker rule(s) and the page will load as expected.